لکھنؤ، 3 /مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے آج کہا کہ واقعی جمہوریت کا سب سے جوابدہ ادارہ یعنی مقننہ کے سامنے معتبریت کا بحران کھڑا ہے مگر جہاں امکانات ہوتے ہیں، وہیں انگلیاں بھی اٹھ سکتی ہیں۔وزیر اعلی نے 17ویں اسمبلی کے منتخب ممبران اسمبلی کے بیداری پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر کی گئی تقریر میں کہا کہ کسی جمہوریت میں مقننہ کی اپنی اہمیت ہے، جن تین ستون پر جمہوریت کھڑی ہے، ان میں مقننہ کے کردار سے کوئی انکار نہیں کر سکتا،حالانکہ مقننہ کے سامنے معتبریت کا بحران کھڑا ہے۔انہوں نے اپنا ایک تجربہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت میں کوئی ایک ادارہ ایسا ہے جو واقعی جوابدہ ہے تو وہ مقننہ ہی ہے، جس عوام نے ہمیں منتخب کیا ہے، پانچ سال بعد ہمیں پھر اسی عوام کے پاس جانا ہوتا ہے، یقینی طور پر ہماری جوابدہی بنتی ہے، کیا ہم امید کر سکتے ہیں کہ کوئی جج یا عدلیہ کا کوئی نمائندہ افسر پانچ سال بعد عوام کے درمیان جائے گا، بالکل نہیں۔یوگی نے کہاکہ اس ملک میں عدلیہ، فوج یا بیوروکریسی سے ریٹائرہوا شخص بعد میں رکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی بننا چاہتا ہے، لیکن پھر بھی ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی پر انگلی اٹھتی ہیں، میرا خیال ہے کہ جہاں امکانات ہوتے ہیں، وہیں انگلی بھی اٹھ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ معتبریت کا جو بحران ہم سب کے سامنے ہیں، اس میں کہیں نہ کہیں ایوان میں ہماری غیر موجودگی، غیر اخلاقی طرزعمل اور عوامی نمائندوں پر بدعنوانی کا الزام لگنا بھی وجہ ہے۔ایک شخص کی طرف سے پھیلائی گئی گندگی سے پورا سسٹم بدنام ہوتا ہے، ہم کس طرح ہر عوامی نمائندے کو اعتبار کی علامت کے طور پر پیش کر سکیں، یہ بیداری پروگرام اسی لیے منعقد کیا گیا ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ ان کی دلی خواہش ہے کہ اتر پردیش کی اسمبلی ملک کی تمام اسمبلیوں کے لیے ایک مثال بن سکے۔